Peer e Kamil novel PDF read online or download by Umaira Ahmad.

Peer e Kamil Novel PDF Read Online or Download by Umaira Ahmad
Peer e Kamil novel download PDF

You can download this most loved and an extraordinary Urdu novel Peer e Kamil in PDF format from this post. It’s author Umaira Ahmad is one of the most popular writers of the present age. This novel is widely praised by the readers of the Urdu literature from all around the world.

The story is about a young girl Imama Hashim and a very genius guy Salar Sikander. Imama belongs to Qadyani religion, but ALLAH shows her a bright way so she decides to become a Muslim. However, it was not an easy decision for her and she has to face troubles. On the other hand, Salar and Imama both hate each other, but later Salar falls in love with her. In the end, Imama also becomes so happy when she realizes that, Salar is the man who is selected for her by almighty ALLAH.

According to the author, once in our life ALLAH shows us 2 different ways. A bright and a dark way. Then it’s up to us that which way we select for us. If we choose the dark way, then soon we realize that it was a wrong decision. At that time if we want to return then only one thing can help us. A voice which can guide us and we do nothing except follow that voice. Peer e Kamil novel PDF is such a voice that brings us in light from the dark.



After finish reading the novel Peer e Kamil in PDF or read online, you might also want to read:

Raja Gidh by Bano Qudsia
Shahab Nama by Qudratullah Shahab

Some wonderful quotes from Peer e Kamil novel PDF in Urdu language

اسے اللہ سے خوف آ رہا تھا بے پناہ خوف۔ وہ کس قدر طاقتور تھا کیا نہیں کر سکتا تھا۔ وہ کس قدر مہربان تھا۔ کیا نہیں کرتا تھا۔ انسان کو انسان رکھنا اسے آتا تھا۔ کبھی غضب سے کبھی احسان سے وہ اسے اس کے دائرے میں ہی رکھتا تھا۔

ہم سب اپنی زندگی کے کسی نہ کسی مرحلے پر زمانہ جاہلیت سے ضرور گزرتے ہیں۔ بعض گزر جاتے ہیں۔ بعض ساری زندگی اسی زمانے میں گزار دیتے ہیں۔ کچھ صالح ہوتے ہیں کچھ صالح بنتے ہیں۔ صالح ہونا خوش قسمتی کی بات ہے۔ صالح بننا دو دھاری تلوار پر چلنے کے مترادف ہے۔ اس میں زیادہ وقت لگتا ہے اس میں زیادہ تکلیف سہنی پڑتی ہے۔

اس ملک میں اتنی مسجدیں ہو چکی ہیں کہ اگر پورا پاکستان ایک وقت کی نماز کے لئے مسجدوں میں اکٹھا ہو جائے تو بھی بہت سی مسجدیں خالی رہ جائیں گی۔ میں مسجدیں بنانے پر یقین نہیں رکھتا۔ جہاں لوگ بھوک سے خودکشیاں کرتے پھر رہے ہوں۔ جہاں کچھ خاص طبقوں کی پوری پوری نسل جہالت کے اندھیروں میں بھٹک رہی ہو۔ وہاں مسجد کی بجائے مدرسے کی ضرورت ہے اسکول کی ضرورت ہے۔ تعلیم اور شعور ہو گا اور رزق کمانے کے مواقع، تو اللہ سے محبت ہو گی ورنہ صرف شکوہ ہی ہو گا۔

Below two quotes are my favorite.

زندگی میں کبھی نہ کبھی ہم اس مقام پر آ جاتے ہیں جہاں سارے رشتے ختم ہو جاتے ہیں۔ وہاں صرف ہم ہوتے ہیں اور اللہ ہوتا ہے۔ کوئی ماں باپ، کوئی بہن بھائی، کوئی دوست نہیں ہوتا۔ پھر ہمیں پتہ چلتا ہے کہ ہمارے پاوں کے نیچے زمین ہے اور سر کے اوپر آسمان۔ بس صرف ایک اللہ ہے جو ہمیں اس خلا میں تھامے ہوئے ہے۔ پھر پتہ چلتا ہے کہ ہم زمین پر پڑی مٹی کے ڈھیر میں ایک ذرے یا درخت پر لگے ہوئے ایک پتے سے زیادہ کی وقعت نہیں رکھتے۔ اور پھر پتہ چلتا ہے کہ ہمارے ہونے یا نہ ہونے سے صرف ہمیں فرق پڑتا ہے۔

شکر ادا نہ کرنا بھی ایک بیماری ہوتی ہے۔ ایسی بیماری جو ہمارے دلوں کو روز بروز کشادگی سے تنگی کی طرف لے جاتی ہے۔ جو ہماری زبان پر شکوہ کے علاوہ اور کچھ آنے ہی نہیں دیتی۔ اگر ہمیں اللہ کا شکر ادا کرنے کی عادت نہ ہو تو ہمیں انسانوں کا شکریہ ادا کرنے کی بھی عادت نہیں پڑتی۔ اگر ہمیں خالق کے احسانوں کو بھی یاد رکھنے کی عادت نہ ہو تو ہم کسی مخلوق کے احسان کو بھی یاد رکھنے کی عادت نہیں سیکھ سکتے۔

Peer e Kamil by Umaira Ahmad PDF free download link



Download -||- Read online

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.